نظام وصیت، ربانی عالمی نظام نو

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نظام وصیت، ربانی عالمی نظام نو

حضرت آدم علیہ السلام کی آمد سے جس مشیئت الہی کا ظہور ہوا تھا وہ اپنے اوج کمال پر آنحضور ﷺ کی بعثت سے پہنچی بلکہ اس صاحب لولاک کے لئے تخلیق آدم ہوئی اور سلسلۂ انسانی آج ہم تک پہنچا، وہ سلسلہ جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کا نام دیا۔

 ہُوَ سَمّٰٮکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚۖ ﴿الحج:79﴾

اُس (یعنی اللہ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا (اس سے) پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ رسول تم سب پر نگران ہو جائے اور تاکہ تم تمام انسانوں پر نگران ہو جاؤ۔

تو وہ نقطہ جہاں سے اس سلسلہ کا آغاز ہوا وہ تھا

اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ  ﴿البقرۃ:31﴾یقیناً میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔

 اور اس خلیفہ کو جو وعدہ دیا گیا تھا وہ تھا

اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِیۡہَا وَلَا تَعۡرٰی ﴿﴾ۙ وَاَنَّکَ لَا تَظۡمَؤُا فِیۡہَا وَلَا تَضۡحٰی ﴿سورة طه:119،120﴾

تیرے لئے مقدر ہے کہ نہ تُو اس میں بھوکا رہے اور نہ ننگا۔ اور یہ (بھی) کہ نہ تُو اُس میں پیاسا رہے اور نہ دھوپ میں جلے۔

گویا جہاں ایک طرف خلافت کا آغاز فرما کر  روحانی ترقیات کی داغ بیل ڈالی گئی وہیں ضروریات زندگی کی ضمانت بھی مہیا فرمائی گئی۔

آج کی دنیا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتی ہے، حالانکہ جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے شروع میں حضرت آدم علیہ السلام  سے فرمایا اس میں روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی کا ذکر بھی تھا۔ اس اعتبار سے یہ وعدہ جملہ انسانی ضروریات کو مد نظر رکھ کر دیا گیا تھا، گویا یہ وہ “ورلڈ آرڈر” ہے جو ابتدائے آفرینش سے انسان کو دیا گیا ہے۔

آج جب حسب وعدۂ الہی خلافت علی منہاج النبوت قائم ہوئی تو امام آخر الزمان نے ایک رسالہ تحریر فرمایا جسے “الوصیت” کا نام دیا، یہ درحقیقت نظام نو کے خد وخال تھے جو اس مبعوث سماوی نے خلاق ومالک کے اذن سے دنیا کے سامنے پیش کئے۔

اور اس میں بھی خلافت کے دوام اور عالمی مالی نظام جو درحقیقت آئندہ کے لئے نسل انسانی کی بقا کا موجب ہو گا وضع فرمایا۔ گویا روحانی اور دنیاوی ضرورتوں کو یہاں بھی یکجا رکھا گیا اور آئندہ ہر طرح کی ترقیات کی ضمات عطا کی گئی۔

کتاب ’’رسالہ الوصیت‘‘ کے آخر میں آپ نے اُن تقویٰ شعار لوگوں اور ایمان میں بڑھنے والوں کے لئے جنہوں نے اعلیٰ ترین معیار کے حصول کے لئے کوشش کی اور اُس مالی نظام کا حصہ بنے جو آپؑ نے جاری فرمایا تھا، اور جس کا اعلان آپؑ نے فرمایا تھاکہ جو اپنی آمد اور جائیدادوں کی وصیت کریں گے، اس سے ترقی اسلام اور اشاعتِ علم قرآن اور کتبِ دینیہ اور سلسلہ کے واعظوں کے لئے خرچ ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ان اموال میں سے اِن خرچوں کے علاوہ ’’اُن یتیموں اور مسکینوں اور نو مسلموں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہِ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں‘‘۔ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلدنمبر 20 صفحہ 319)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نظام کی اہمیت کی وضاحت  بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

خلاصہ یہ کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے وصیت حاوی ہے اس تمام نظام پر جو اسلام نے قائم کیا ہے۔  بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں وصیت کا مال صرف لفظی اشاعت اسلام کے لئے ہے مگر یہ بات درست نہیں، وصیت لفظی اشاعت  اور عملی اشاعت دونوں کے لیے ہے جس طرح اس میں تبلیغ شامل ہے اسی طرح اس میں اس نئے نظام کی تکمیل بھی شامل ہے جس کے ماتحت ہر بشر کی باعزت روزی کا سامان مہیا کیا جائے۔ جب  وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس  سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت  ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اور  تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا ۔ان شاء اللہ ۔ یتیم بھیک نہ مانگے گا ، بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ  پھیلائے گی، بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی، جوانوں کی باپ ہوگی،  عورتوں کا سہاگ ہوگی اورجبر کے بغیر اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی اس کے ذریعے سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالی سے بہتر بدلہ پائے گا ۔ نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ  اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔(نظام نو صفحہ 119، 120)

یہ کب ہو گا اس کی بابت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

پس جوں جوں تبلیغ ہوگی اور لوگ احمدی ہوں گے وصیت کا نظام وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اور  کثرت سے اموال جمع ہونے شروع ہوجائیں گے۔ قاعدہ ہے کہ شروع میں ریل آہستہ آہستہ چلتی ہے مگر پھر بہت ہی تیز ہوجاتی ہے اسی طرح اگر خود دوڑنے لگو تو شروع کی رفتار اور بعد کی رفتار میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ پس وصیت کے ذریعے اس وقت جو اموال جمع ہو رہے ہیں ان کی رفتار بے شک تیز نہیں مگر جب کثرت سے احمدیت پھیل گئی اور جوق در جوق لوگ ہمارے سلسلے میں داخل ہونے شروع ہو گئے  اس وقت اموال خاص طور پر جمع ہونے شروع ہوجائیں گے اور قدرتی طور پر جائیدادوں کا ایک جتھا دوسری جائیدادوں کو کھینچنا شروع کر دے گا اور جوں جوں وصیت وسیع ہوگی نظام نو کا دن انشاءاللہ قریب سے قریب تر آجائے گا۔ (نظام نو صفحہ 119)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

حضرت اقدس مسیح موعود نے رسالہ الوصیت میں دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد نظام خلافت کا اجراء اور دوسرے اپنی وفات پر آپ کو یہ فکر پیدا ہونا کہ ایسا نظام جاری کیا جائے جس سے افراد جماعت میں تقویٰ بھی پیدا ہو اور اس میں ترقی بھی ہو اور دوسرے مالی قربانی کا بھی ایسانظام جاری ہو جائے جس سے کھرے اور کھوٹے میں تمیز ہو جائے اور جماعت کی مالی ضروریات بھی باحسن پوری ہو سکیں۔ اس لئے وصیت کا نظام جاری فرمایا تھا۔ تو اس لحاظ سے میرے نزدیک میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ نظام خلافت اور نظام وصیت کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ (6/8/2004)

اللہ کرے کہ ہم ہمیشہ ان توقعات پر پورا اترتے رہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے کی ہیں۔ اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث بنتے رہیں۔ اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے اس کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے والے بنتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔