اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِأَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃ(التوبہ:۱۱۲)
ترجمہ : یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں تا کہ اس کے بدلہ میں اُنہیں جنت ملے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی کواس کی موت کا،اس دنیاسے جانے کاعلم دیاجاتاہے تووہ اوّل توگھبراہٹ کاشکارہوتاہے اورہاتھ پاؤں مارتاہے کہ کاش یہ موت کاپیالہ ٹل جائے اوردوسرے اس کواپنی جائیداد،مال ودولت اوراولادکاخیال آتاہے ،یوں کہیے کہ دنیاسے پیارکرنے والوں کواپنی مال ودولت ،جائیدادسے پیارہوتاہے اس لئے ان کواسی کافکرکھائے جاتاہے۔ لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دنیامیں کچھ وجودایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کوجب ان کی رخصتی کاپیغام دیاجاتاہے توایک طرف وہ خوش بھی ہوتے کہ اب ہمیں محبوب حقیقی کاوصال نصیب ہوگا،لیکن انہیں بھی اس دنیامیں پیارہوتاہے ،انہیں بھی فکراورغم کھائے جارہاہوتاہے ،وہ بھی ایک غم میں گھلے جارہے ہوتے ہیں ،لیکن ان کایہ غم اورفکرکسی مال ودولت اورجائیدادکی بابت نہیں ہوتا،اپنے بیوی بچوں سے بھی نہیں ہوتا،ان کاپیاربھی عجیب ہوتاہے اوران کاغم بھی نرالا،وہ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ کی عملی تصویرہوتے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھیوں کا،اپنے ماننے والوں ،اپنے وفاشعاروںکا غم ہوتاہے۔وہ واقعی اپنی اس رخصتی پرخوش بھی ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انپے ماننے والوں کے لئے جنہیں وہ اپنے بچوں کی طرح ہی چاہتے ہیں، پریشان بھی ہوتے ہیں ۔اس کی ایک عملی تصویرہم 1905ء میں اس وقت دیکھتے ہیں، جب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کوان کی وفات کے متعلق مسلسل الہامات ہونے شروع ہوتے ہیں تواس وقت آپ کے دل کاکیاحال تھا،ا س دل میں جومحبت اورپیارتھا اس کی گہرائی کودیکھیں ۔آپ فرماتے ہیں:۔
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غم اس بات کاہے کہ ابھی جماعت کچی ہے اورپیغام موت آرہاہے گویاجماعت کی حالت ا س بچہ کی سی ہے جس نے ابھی دوچارروزدودھ پیاہواوراس کی ماں مرجائے‘‘۔
(الحکم جلد10نمبر1ص5،/10جنوری 1906ء بحوالہ ملفوظات جلد4ص596-597)
دیکھیں کتنی محبت تھی اورکتناغم تھاآپ کواپنی جماعت کا۔آپ نے جہاں اس جماعت کے لئے دعاؤں کاایک بہت بڑاخزانہ چھوڑا،وہاںجماعت کی انفرادی اوراجتماعی کامیابی وکامرانی کے لئے ایک مستقل انتظام کردیا۔ظاہرہے کہ اس سے بڑی کامیابی کسی بھی انسان کی اورکیاہوسکتی ہے کہ اس کی زندگی میں ہی اس کوجنت کی رہ دکھادی جائے۔چودہ سوسال قبل سرورکائنات فخرموجودات ،حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے مسیح موعود کے بارے میں فرمایاتھاکہ یُحَدِّثُھُمْ بِدَرَجَاتِھِمْ فِی الْجَنَّۃِ۔ وہ انہیں جنت میں ان کے درجات کاپتہ دے گا۔ (صحیح مسلم جلد ثانی باب ذکر الدجال)
حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک طرف ہراحمدی کی انفرادی کامیابی وکامرانی کی نویدسنائی تودوسری طرف جماعت کے غم کوایک خوشی میں بدل دیا،ایک لازوال خوشی ،دائمی مسرت کی نویددے کرکہ میں توجارہاہوں لیکن میرے بعدہمیشہ ایسے لوگ آتے رہیں گے جومیرے جانشین ہوں گے۔جیسے میں خداکی ایک مجسم قدرت ہوں وہ وجوددوسری قدرت کے مظہرہوں گے۔ان دوخوشخبریوں کے اندراپنی جدائی کی خبردیتے ہوئے آپ نے ’’الوصیت‘‘کے نام سے ایک رسالہ تحریر فرمایاجس میں اس عالمگیرنظام کاذکرفرمایاجو’’نظام وصیت‘‘ کہلاتاہے۔ آپ اس پس منظرکاذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’۔۔۔۔۔۔ اور مجھے ایک جگہ دکھلا دی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے۔ تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔ پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے۔ اور ایک جگہ مجھے دکھائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔ اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں‘‘۔ ( روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316۔ رسالہ الوصیت )
اس قبرستان کے لئے اوراس میں دفن ہونے والے خوش نصیبوں کے لئے خداکے اس پیارے مسیح نے یوں دعا فرمائی:۔
’ ’میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنا دے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کیلئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا ۔آمین یا رب العالمین
پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہو چکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی اُن کے کاروبار میں نہیں ۔آمین یا رب العالمین
پھر میں تیسری دفعہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر کریم اے خدائے غفور ورحیم تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور اطاعت کا ہے بجا لاتے ہیں اور تیرے لئے اور تیری راہ میں اپنے دلوں میں جان فدا کر چکے ہیں جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو جانتا ہے کہ وہ بکلی تیری محبت مین کھوئے گئے اور تیرے فرستادہ سے وفاداری اور پورے ادب اور نشراحی ایمان کے ساتھ محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھتے ہیں۔ آمین یا رب العالمین ‘‘۔
( روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316 تا 318۔ رسالہ الوصیت )
اس نظام میں شامل ہوناایک عظیم سعادت کوپاناتھااس لئے حضورنے بنیادی طورپرکچھ شرائط رکھیں،چنانچہ آپ نے فرمایا:۔
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ اس قبرستان کیلئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلُّ رَحْمَۃٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں ۔اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کیلئے ایسے شرائط لگا دیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہو سکیں جو اپنے صدق اور کامل راست بازی کی وجہ سے اُن شرائط کے پابند ہوں سو وہ تین شرطیں ہیں اور سب کو بجا لانا ہوگا۔
1۔ اس قبرستان کی زمین موجودہ بطور چندہ کے میں نے اپنی طرف سے دی ہے لیکن اس احاطہ کی تکمیل کیلئے کس قدر اور زمین خریدی جائے گی جس کی قیمت اندازاً ہزار روپیہ ہوگی ۔اور اس کے خوشنما کرنے کیلئے کچھ درخت لگائے جائیں گے اور ایک کنواں لگایا جائے گا اور اس قبرستان سے شمالی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گذرگاہ ہے اس لئے وہاں ایک پُل تیا ر کیا جائے گا اور ان متفرق مصارف کیلئے دو ہزار روپیہ درکار ہوگا۔سو کُل یہ تین ہزار روپیہ ہو ا جو اس تمام کام کی تکمیل کیلئے خرچ ہوگا۔سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کیلئے چندہ داخل کرے اور یہ چندہ محض انہی لوگوں سے طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے ۔بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نور الدین صاحب کے پاس آنا چاہیے ۔لیکن اگر خداتعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا ۔اس صورت میں ایک انجمن چاہیے کہ آمدنی کا روپیہ جو وقتاً فوقتًا جمع ہوتا رہے گا۔اعلائے کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں ۔
2۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیّت کرے جو اس کی موت کے بعد ددسواں حصّہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اورتبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہوگا ۔
3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو سچا اورصاف ۔۔۔۔ ہو۔
4۔ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کیلئے اپنی زندگی وقت رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔
( روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 318تا 320۔ رسالہ الوصیت )
اس نظام کی مقبولیت اورحیرت انگیزترقی کاذکرکرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔
’’۔۔۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سلسلہ کو ترقی دے گا۔ اس لئے امید کی جاتی ہے کہ اشاعت اسلام کیلئے ایسے مال بھی بہت اکٹھے ہو جائیں گے۔ اور ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام امور ان اموال سے انجام پذیر ہونگے۔ اور جب ایک گروہ جو مکتفّل اس کام کا ہے فوت ہو جائیگا تو وہ لوگ جو اُن کے جانشین ہونگے انکا بھی یہی فرض ہوگا کہ ان تمام خدمات کو حسب ہدایت سلسلہ احمدیہ بجا لاویں۔ ان اموال میں سے ان یتیموں اور مسکینوں اور نومسلموں کا بھی حق ہوگا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔ اور جائز ہوگا کہ ان اموال کو بطور تجارت ترقی دی جائے۔ یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دُور از قیاس باتیں ہیں۔ بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔ ‘‘
( روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319۔ رسالہ الوصیت )
نظام وصیت میں شامل ہونے والوں کی خوش نصیبی اوران کی مالی امدادکوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’ ہر ایک صاحب جو حسب شرائط متذکرہ بالا کوئی وصیت کرنا چاہیں تو ان کی وصیت پر عمل درآمد ان کی موت کے بعد ہوگا۔ لیکن وصیت کو لکھ کر اس سلسلہ کے امین مفوض الخدمت کو سپرد کر دینا لازمی امر ہوگا اور ایسا ہی چھاپ کر شائع کرنا بھی کیونکہ موت کے وقت اکثر وصایا کا لکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور چونکہ آسمانی نشانوں اور بلاؤں کے دن قریب ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے وقت میں وصیت لکھنے والا بہت درجہ رکھتا ہے جو امن کی حالت میں وصیت لکھتا ہے اور اس وصیت کے لکھنے میں جس کا مال دائمی مدد دینے والا ہوگا اس کو دائمی ثواب ہوگا اور خیرات جاریہ کے حکم میں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ ایسے کامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں۔ تا آئندہ کی نسلیں ایک ہی جگہ اُن کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں۔ اور تا اُن کے کارنامے یعنی جو خدا کیلئے انہوں نے دینی کام کئے ہمیشہ کیلئے قوم پر ظاہر ہوں۔بالآخر ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کام میں ہر ایک مخلص کو مدد دے اور ایمانی جوش ان میں پیدا کرے اور اُن کا خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین‘‘۔
( روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 320 ، 321 ۔ رسالہ الوصیت )
حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام فرماتے ہیں:۔
’’ اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا میں امید نہیں رکھتا کہ اس مال کے خرچ سے اس کے مال میں کچھ کمی آجائے گی بلکہ اس کے مال میں برکت ہو گی۔ پس چاہئے کہ خداتعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے پھر بعد اِس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے پیسہ کے برابر نہیں ہو گا۔ یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فر ستادہ موجود ہے جس کا صدہا سال سے امتیں انتظار کر رہی تھیں اور ہر روز خداتعالیٰ کی تازہ وحی تازہ بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہو رہی ہے اور خدا تعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا ہے کہ واقعی اور قطعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات۔ جلدسوم۔ صفحہ323۔ اشتہارنمبر253)
نظام وصیت دنیا کے معاشی اور اقتصادی مسائل کا حل ہے اور نظام نو کی بنیاد ڈالنے والا روحانی منصوبہ ہے ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :۔
’’عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب دُنیا چلاّ چلاّ کر کہے گی کہ ہمیں ایک نئے نظام کی ضرورت ہے تب چاروں طرف سے آوازیں اُٹھنی شروع ہو جائیں گی کہ آؤ ہم تمہارے سامنے ایک نیا نظام پیش کرتے ہیں ۔ روس کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں ۔ ہندوستان کہے گا کہ آؤ میں تم کو ایک نیا نظام دیتا ہوں،جرمنی اور اٹلی کہے گا آؤ میں تم کو ایک نیا نظام دیتا ہوں امریکہ کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں اس وقت میرا قائم مقام قادیان سے کہے گا کہ نیا نظام الوصیت میں موجود ہے اگر دُنیا فلاح و بہبود کے رستہ پر چلنا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ الوصیت کے پیش کردہ نظام کو دُنیا میں جاری کیا جائے۔‘‘
(انوار العلوم جلد 16 ۔ نظام نو صفحہ117)
’’جب وصیت کا نظام مکمل ہو گا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہو گی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دُکھ اور تنگی کو دُنیا سے مٹا دیا جائے گا ان شاء اللہ۔ یتیم بھیک نہ مانگے گا، بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی،بےسامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہو گی، جوانوں کی باپ ہو گی ، عورتوں کا سہاگ ہو گی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اس کے ذریعہ سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہو گا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالیٰ سے بہتر بدلہ پائے گا۔ نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب۔ نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دُنیا پر وسیع ہو گا۔‘‘
(انوار العلوم جلد 16 ۔ نظام نو صفحہ131۔132)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2004ء کے موقع پر اپنے اختتامی خطاب میں وصیت کے آسمانی نظام کے متعلق تحریک کرتے ہوئے فرمایا:-
’’اس نظام کو قائم کیے2005ء میں انشاء اللہ تعالیٰ ایک سو سال ہوجائیں گے۔ جیساکہ میں نے پہلے بتایاتھا کہ 1905ء میں آپ نے یہ جاری فرمایا تھا جیسا کہ متعدد جگہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام اس نظام وصیت میں شامل ہونے والوں کو خوش خبریاں دے چکے ہیں۔ جماعت پر حسن ظن آپ نے فرمایا ہے کہ ایسے مومنین ملتے رہیں گے اور ضرور ملتے رہیں گے جو اس طرح اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی مالی قربانیاں بھی پیش کرنے والے ہوں گے اور روحانیت میں بھی ترقی کرنے والے ہوں گے لیکن جس رفتار سے جماعت کے افراد کو،عہد باندھنے والوں کو اس نظام میں شامل ہونا چاہیے تھا نہیں ہورہے جس سے مجھے فکر بھی پیدا ہوئی ہے اور میں نے سوچا ہے کہ آپ کے سامنے اعدادوشمار بھی رکھوں تو آپ بھی پریشان ہوجائیں گے۔اور اعدادوشمار یہ ہیں کہ آج 99سال پورے ہونے کے بعد بھی قریباً 1905ء سے لے کر آج تک اڑتیس ہزار(38,000) کے قریب احمدیوں نے صرف وصیت کی ہے اور اگلے سال انشاء اللہ تعالیٰ وصیت کے نظام کو قائم ہوئے سو(100)سال ہوجائیں گے جیسا کہ میں نے کہا۔ تو میری یہ خواہش ہے اورمیں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ اس آسمانی نظام میں اپنی زندگیوں کو پاک کرنے کے لیے، اپنی نسلوں کی زندگیوں کو پاک کرنے کے لیے شامل ہوں۔آگے آئیں اور کم از کم، یہ کم وبیش اندازہ میں نے دیا تھا ،کم ازکم پندرہ ہزار(15,000)اس ایک سال میں نئی وصایا ہوجائیں تا کہ کم از کم پچاس ہزار(50,000)وصایا تو ایسی ہوں جو سو(100)سال میں ہم کہہ سکیں کہ ہوئیں۔ تو ایسے مومن تو نکلیں کہ کہا جاسکے کہ جنہوں نے خدا کے مسیح کی آوازپرلبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ اور پھر ایک یہ بھی میری خواہش ہے کہ ۔۔۔ 2008ء میں جب خلافت احمدیہ کو قائم ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ سو(100)سال ہوجائیں تو دنیا کے ہر ملک میں، ہرجماعت میں جو کمانے والے افرادہیں، چندہ دہندہیں ان میں سے کم از کم50%تو ایسے ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عظیم الشان نظام میں شامل ہوچکے ہوں اور روحانیت کو بڑھانے اور قربانیوں کے یہ اعلیٰ معیار قائم کرنے والے بن چکے ہوں ۔۔۔
اور اس نظام میں شامل ہونے سے یاد رکھیں جیساکہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ شامل ہونے چاہئیں آپ نے فرمایاکہ انجام بخیر کی فکر کرنے اور عبادات بجالانے والے ،جو زمانہ ہے وہ جوانی کا زمانہ ہے جیسا کہ پہلے ذکرہوچکا ہے اس لیے خدام الاحمدیہ اور انصا راللہ کی صف دوئم جو ہے اور لجنہ اماء اللہ کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے کیونکہ ستر پچھتر سال کی عمر کو پہنچ کر جب قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں تو وصیت تو اس وقت بچا کھچا ہی ہے جوپیش کیا جاتا ہے۔ تو امید ہے کہ احمدی خواتین بھی اور نوجوان بھی اس سلسلہ میں بھرپورکوشش کریں گے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے، عورتوں کو خاص طور پر میں کہہ رہا ہوں کہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاوندوں اور بچوں کو بھی اس عظیم انقلابی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔
(الفضل انٹرنیشنل 10 تا 16 دسمبر 2004 )
سیدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 6اگست 2004ء میں فرمایا:-
’’ بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں جو دوسری جماعتی خدمات میں بعض دفعہ جب ان کو کوئی تحریک کی جائے تو پیش پیش ہوتے ہیں یا کم از کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکتے ہیں وہ اس میں لیں لیکن وہ نظام وصیت میں شامل ہونے سے محروم ہیں۔ ان میں سے بھی کئی لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اس نظام میں شامل ہوں گے۔ ایسے صاحبِ حیثیت لوگوں کو ،ایسے احمدیوںکو تو سب سے پہلے چھلانگ مار کر آگے آنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمائے ہیں ان کے شکرانے کے طور پر ہم اس نظام میں شامل ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے مزید کھلیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پرجو نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا اظہار ہونا چاہیے ۔علا وہ اپنے ذاتی اظہار کے قربانیوں کی طرف توجہ دینے کا بھی اظہار ہونا چاہیے۔‘‘
(روزنامہ الفضل۲۸؍ستمبر۲۰۰۴ء)
’’جیسا کہ میں نے بتایا تھا یہ نظام وصیت بھی ذہنوں اور مالوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح بعض مسلمان کرتے ہیں کہ غلط طریق سے مال کمایااور پھر بازار میں چند گیلن ٹھنڈے پانی کی سبیل لگا دی یا برف ڈلوا دی یا مسجد بنوا دی یا اس کا کچھ حصہ بنوا دیا یا حج کر آئے اور سمجھ لیا کہ اب ہمارے مال پاک ہو گئے ہیں ناجائز ذریعے سے کمائے ہوئے مال۔ ایسے لوگ تو دین کے ساتھ مذاق کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ یہاں پاک کرنے کے ذریعے سے یہ مطلب ہے کہ پاک ذرائع سے کمائی ہوئی جو دولت ہے اس کو جب پاک مقاصد کے لیے خرچ کیا جائے گا تو اس سے تمہارے اندر جہاں روحانی تبدیلیاں پیدا ہوں گی وہاں تمہارے اموال و نفوس میں بھی بے انتہا برکت پڑے گی۔ جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی ہے رسالہ الوصیت میں اور تین دفعہ یہ دعا کی ہے کہ ایسے لوگوں کو جو اس نظام میں شامل ہوں نیک اور پاک لوگوں کی جماعت بنا دے۔ تو مختصراً آج میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں جلسے کے بابرکت اختتام پر آپ نے شکرانے کا اظہار کیا اور شکرانے کا اظہار کر رہے ہیں وہاں اس شکرانے کا عملی اظہار بھی کریں کیونکہ جہاں اس نظام میں شامل ہونے والے تقویٰ میں ترقی کریں گے وہاں جماعت کی مضبوطی کا باعث بھی بنیں گے۔‘‘
(روزنامہ الفضل۲۸؍ستمبر۲۰۰۴ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
’’سب سے پہلے عہدیداران اپنا جائزہ لیں ۔…..کہ 100%جماعتی عہدیداران اس نظام میں شامل ہوں ، چاہے وہ مرکزی عہدیداران ہوں یا مرکزی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں یامقامی جماعتوں کے عہدیداران ہوں یا مقامی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل2006ء ۔بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 5تا11مئی2006ء صفحہ نمبر8)
’’سب سے پہلے میں یہاں کہوں گا کہ تمام عہدیداران جو ہیں ان کو اس نظام میں شامل ہونا چاہئے۔نیشنل عاملہ سے لے کر نچلی سے نچلی سطح تک جو بھی عاملہ ہے اس کے لیول تک۔ہر عاملہ کا ممبر اس نظام میں شامل ہو۔تبھی وہ تلقین کرنے کے قابل بھی ہوگا۔‘‘
(خطاب سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ یو۔کے فرمودہ 26ستمبر2004ء۔بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 31دسمبر2004ء تا 6جنوری 2005ء صفحہ نمبر4)
’’یو۔کے کی لجنہ کو میں نے کہہ دیا ہے کہ جو دینی احکامات پر عمل کرنے والی اور موصیہ ہواسے عہدیدار بنائیں ۔وصیت اس لئے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اسے مومن اور منافق میں فرق کی علامت قرار دیا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے اس موضوع پر باقاعدہ ایک تقرر بھی فرمائی تھی ۔
آپ عہدیداران کو وصیت کی تحریک ضرور کریں ۔ٹھیک ہے وہ پابند نہیں ہے کہ ضرور وصیت کرے لیکن پھر آپ بھی پابند نہیں ہیں کہ اسے عہدیدار بنائیں اس لئے کہ اس نے گریجویشن کی ہوئی ہے اور وہ عقل کی باتیں کرلیتی ہے ۔اس کی بجائے اسے عہدیدار بنائیں جو دینی احکامات پر عمل پیرا ہے ، حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت کے بعد آپ کے جاری کردہ نظام وصیت میں بھی شامل ہے تو گو ہو کچھ کم پڑھی ہوئی ہے ، اسے عہدیدار بنائیں ۔‘‘
(مجلس عاملہ لجنہ ہدایت فرمودہ 25دسمبر 2006ء۔بحوالہ الفضل 6جنوری 2007ء صفحہ نمبر5)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اُس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں اُن کے لیے موقع ہے کہ اپنے جوھر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔
(الوصیّت۔ روحانی خزائن جلد20صفحہ 309-308)
پس مبارک ہیں وہ جو کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام وصیت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے خدا اور اس کے رسول اور امام وقت کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں اور اشاعت اسلام کا باعث بنتے،مسیح پاک کی دعاؤںکے وارث بنتے اورجنت کے حق دارٹھہرتے ہیں۔

